کیا وقفے دار کم خوراکی وزن کم کرنے کیلیے مؤثر ہے؟

Disclosure: this is a sponsored post that contains sponsored links

اگر ماہ جنوری میں وزن کم کرنا آپ کی خواہشات میں شامل ہے تو آپ تنہا نہیں ہیں۔ یہ نئے سال پر خود سے کیا جانے والا مقبولِ عام وعدہ ہے۔ لیکن سال کے کسی ایک مخصوص حصے میں ڈائٹنگ کرنا قدرے مشکل ہے۔
ڈائٹنگ کے لیے کون سا طریقۂ کار اپنایا جائے؟ اس کا فیصلہ کرنا آسان نہیں۔ شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہے جب اس حوالے سے کوئی نئی تحقیق سامنے نہ آتی ہو۔
شرط لگائیں، وزن گھٹائیں

%d0%b0%d1%83%d1%80%d0%b0-%d0%bf%d0%b8%d1%89%d0%b8-3حالیہ برسوں میں پروٹین والے مشروبات کا رجحان بہت بڑھا ہے لیکن ایک سائنسی تحقیق یہ بھی کہتی ہے کہ لوگوں کی اکثریت ضرورت سے کہیں زیادہ پروٹین لے رہی ہے۔

ایک وقت تھا کہ کم چکنائی والی غذا کی طرف بھرپور توجہ دی جاتی تھی لیکن اب اس کے لیے حمایت کم ہو رہی ہے۔ لاس اینجلس کلینک اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے صدر ڈاکٹر لورنس پیرو کا کہنا ہے کہ ’لوگوں کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔‘

ڈاکٹر پیرو تسلیم کرتے ہیں کہ لوگوں کو وزن گھٹانے کے لیے خوراک کے بارے میں ملے جلے پیغامات ملتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ حالیہ دنوں میں یہ طبی مشورہ بہت دیا گیا کہ ’سرخ گوشت نہ کھائیں بلکہ مچھلی کھائیں، لیکن پھر یہ کہا گیا کہ فارم میں پلی مچھلی بھی نہ کھائیں کیونکہ اس طرح جسم میں معدنیات کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے۔ اس لیے اب مچھلی نہ کھائیں بلکہ سبزیاں کھانا شروع کر دیں۔ یعنی سبزی خور بن جائیں۔‘

وقفے سے کی جانے والی فاقہ کشی کا رواج گذشتہ ایک ڈیڑھ برس میں بڑھا ہے۔ انھی میں سے ایک طریقۂ کار 5:2 diet کہلاتا ہے جس میں ہفتے کے مخصوص دنوں میں چکنائی والی خوراک میں کمی لائی جاتی ہے۔

لیکن یہ ثابت کرنے کے لیے کہ اس طرح کے اصول کتنے فائدے مند ہیں، مزید طبی اعداد و شمار کی ضرورت ہے۔

برطانیہ میں صحت سے متعلق ادارے نے اس طرح کی وقفہ دار فاقہ کشی کے طریقوں پر سوال اٹھائے ہیں۔

میں نے پانچ ماہ پر محیط ڈائٹ کے لیے کی جانے والی ایک نئی سائنسی تحقیق کے لیے خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کیا ہے۔ اس تحقیق میں پانچ دن لگاتار ایسی قلیل خوراک پر گزارا کرنا تھا جس میں محض 500 کیلوریز یومیہ استعمال کی جائیں۔ یہ خوراک ایک عام آدمی کی یومیہ خوراک کا صرف 25 فیصد ہے۔

یہ مطالعہ ایک اچھا موقع تھا کہ سائنس دانوں کی مدد کی جائے تاکہ وہ خوراک اور انسانی جسم کے تعلق کو سمجھ سکیں۔

یہ طبی تحقیق ابھی جاری ہے اور اس میں یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ بنا چکنائی والی خوراک کا یہ اصول کتنا قابلِ عمل، محفوظ اور فائدہ مند ہے اور آیا اس سے کوئی نفسیاتی مسائل تو نہیں پیدا ہوتے۔

اس تحقیق کی بنیاد چوہوں پر کیے جانے والے وہ تجربات ہیں جن کے مطابق ان کی خوراک میں 30 فیصد کمی لانے کے بعد ان کی صحت اور عمر میں اضافہ دیکھا گیا۔

low-carb-diaten33659_m_n

جنوبی کیلی فورنیا کی یونیورسٹی نے جب اس تحقیق کے لیے رضاکاروں کی اپیل کی تو لوگوں نے بڑا پرجوش رد عمل دکھایا۔

تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر مِن وے کا کہنا ہے کہ ’ کیلی فورنیا کے لوگ خوراک، ورزش اور صحت کے معاملے میں بہت آگاہ ہیں، خاص طور پر ایسے ماحول میں جہاں موٹاپا، ذیابیطس اور کینسر بڑا مسئلہ ہے۔ ‘

پابند خوراک لینے کے عرصے میں کھانے کے لیے چنے گئے اجزا غذائیت سے بھرپور تھے۔ اس میں پودوں سے حاصل ہونے والے اجزا کے سُوپ، میوے، سلاد کے پتے، جڑی بوٹیوں کی چائے اور طاقت بخش مشروبات شامل تھے۔

پانچ روز میں لی جانی والی کیلوریز کی تعداد 2500 تھی جو ایک عام آدمی عموماً ایک دن میں لیتا ہے۔ اس دوران کسی قسم کی اضافی خوراک کی اجازت نہیں تھی۔ بقیہ مہینے کے دوران ہمیں عام خوراک کھانے کی اجازت تھی۔

یہ تجربہ تین بار دہرایا گیا۔

اس دوران ہمارے خون کے نمونے لیے گئے، جسم کا وزن اور غذائیت جذب کیے جانے کے ٹیسٹ لیے گئے جس میں جسم میں موجود چربی کی مقدار اور ہڈیوں کی موٹائی دیکھی گئی۔ اس دوران ایم آر آئی کے ذریعے دماغ کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا تاکہ یہ جانا جا سکے کہ کم خوراکی سے سوچنے کی صلاحیت پر تو کوئی اثر نہیں پڑتا۔

اس کم خوراکی کے تجربے نے ہر شخص پر مختلف اثر ڈالا۔ بعض لوگوں کو شدید بھوک لگتی رہی اور بعض نے اسے سخت ناپسند کیا۔

لیکن ایک مثبت چیز جو مجھ سمیت سب نے محسوس کی وہ یہ تھی کہ سبھی کو ذہنی آسودگی کا احساس ہوا۔

ہمارا معدہ شکایت کرتا رہے لیکن ہم نے اپنے ذہنوں میں تیزی اور چُستی محسوس کی۔

weight-01